اہم خبریںپاکستان

بجٹ منظوری کیلئے کامران ٹیسوری کی بطور گورنربحالی ہماری ریڈلائن ہے: فاروق ستار

 

ایم کیوایم پاکستان کے مرکزی رہنما اور پارٹی چئیرمین خالد مقبول صدیقی کے دست راست نے بتایا کہ پوری پارٹی کامران ٹیسوری کے ساتھ ہے کیونکہ جیسی گورنری انہوں نے سنبھالی، اس کا کوئی موازنہ ہی نہیں۔

 

ایم کیوایم رہنما نے کہا کہ کامران ٹیسوری کے جانےسے ایم کیوایم کونقصان ہوا، گورنر ہاؤس سے شہر کےمسائل اجاگر کرنے اورانہیں حل کرنے والی ایک مضبوط شخصیت کو ہٹایا گیا، اس لیے بجٹ کے موقع پر ایم کیوایم کوئی لحاظ نہیں رکھے گی، کامران ٹیسوری کی بحالی کے معاملے پر کھل کر بات کی جائے گی۔

 

کامران ٹیسوری اکتوبر 2022 سے مارچ 2026 تک سندھ کے گورنر رہے تھے۔  یوں تو انکے گورنری سنبھالنے کے بعد سے ہی میڈیا میں انہیں عہدے سے ہٹانے کی باتیں گردش کرنے لگی تھیں تاہم رمضان کے آخری عشرے میں انہیں اچانک عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا اور انکی جگہ ن لیگ کے رہ نما نہال ہاشمی کو یہ عہدہ سونپ دیا گیا۔

ایم کیوایم رہنما فاروق ستار نے اس حوالے سے کہا کہ پارٹی کی سینس یہی ہے کہ کامران ٹیسوری کی بحالی کو ریڈ لائن بنایا جائے، ایم کیوایم کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے اجلاس میں یہ بات رکھی گئی تو کسی نے اعتراض نہیں کیا، ایم کیوایم پاکستان کے تمام اراکین اسمبلی متفق ہیں کہ فی الحال اگر 28 ویں ترمیم نہیں لائی جارہی تو کم سے کم بجٹ میں کامران ٹیسوری کی بحالی کو ریڈ لائن بنایا جائے

 

فاروق ستار نے کہا کہ سیاسی لحاظ سے کامران ٹیسوری کی واپسی اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ ببانگ دہل پیپلزپارٹی کوٹف ٹائم دیتے رہے ہیں اور ایم کیوایم کے پاس ایک آئینی عہدہ اس لیے ضروری ہے کہ وہ سندھ حکومت پر چیک اینڈ بیلنس رکھ سکے۔

 

فاروق ستارنے کہا کہ کامران ٹیسوری نے بلاتفریق رنگ ونسل 5 لاکھ بچوں کوآئی ٹی تعلیم دی، 10 لاکھ ضرورت مندوں میں راشن بانٹا۔ رہائشی پلاٹ، لیپ ٹاپ،موٹرسائیکلز، رکشے،موبائل فونز تقسیم کیے، تاجروں،بزنس کمیونٹی اور پسے ہوئے طبقے کی آواز بنے، ایسے شخص کو گورنر سندھ کے عہدے سے بلا وجہ ہٹانا قبول نہیں۔

فاروق ستار نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ دل بڑا کریں ، ن لیگ کی جانب سے چھوٹی سی قربانی، حق پرستوں ہی نہیں سندھ کے تمام طبقات کوحوصلہ دینے کا سبب بنے گی، فاروق ستار نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ورنہ بجٹ منظوری کو کامران ٹیسوری کی بحالی سے نتھی کیا جائےگا۔

یہی بات جب  ایم کیوایم کے تیسرے اہم دھڑے کے ایک اور سینئر رہنما سے پوچھی تو انہوں نے کہا کہ پارٹی کا ایک طریقہ کارہے، کامران ٹیسوری کی بطور گورنر بحالی کا معاملہ ابھی پارٹی سطح پر زیربحث نہیں لایا گیا، کامران ٹیسوری ہمارے دوست ہیں۔ گورنر وفاق کا نمایندہ ہوتا ہے  اور وزیراعظم اگرکامران ٹیسوری کودوبارہ نامزد کریں، صدر انکی منظوری دیں تو ایم کیوایم کو اعتراض کیوں ہوگا۔

ان ایم کیوایم رہنما نے کہا کہ بطور مہاجر پرست ان کے نزدیک سب سے اہم بات یہ ہے کہ مہاجروں کو درپیش مسائل حل کیے جانے چاہئیں۔

 

اس سوال پر کہ آیا کامران ٹیسوری کی بحالی کو بجٹ میں ریڈ لائن بنانے سے متعلق ایم کیوایم کی مرکزی کمیٹی کااجلاس بھی متوقع ہے؟ فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیوایم کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کی بھی خواہش ہے کہ وہ کنوینر خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال کےساتھ بیٹھ کر واضح لائحہ عمل سُنیں کیونکہ یہ دونوں شخصیات گورنمنٹ پورٹ فولیو بھی رکھتی ہیں۔

 

تو کیا بڑی عید کے مہینے میں ایم کیوایم کی دہلیز پر ن لیگ اپنا گورنر قربان کرسکتی ہے؟

ایم کیوایم پاکستان کے قومی اسمبلی میں 22 ایم این اے ہیں جبکہ سینیٹ میں 3 اراکین کا تعلق اس جماعت سے ہے۔اس سے قبل 27 ویں آئینی ترمیم منظور کرانے میں ایم کیوایم نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

 

قومی اسمبلی میں بجٹ پر ایم کیوایم نے ساتھ نہ دیا تو ن لیگ اپنی بڑی اتحادی پیپلزپارٹی کےساتھ مل کر بجٹ منظور کرالے گی مگر ایک اور اہم اتحادی ایم کیوایم کو ناراض کرنا اپوزیشن کو غیرمعمولی طور پر مضبوط کرنے کا سبب بنے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button