اہم خبریں

ایس ڈی او ،سب انجینئر ایم اینڈ آر ہائی وے بلڈنگ ڈویژن2 نے 2 کروڑ کی بوگس کوٹیشیز پر عیدی بنا لی۔

By Editor arshad Mahmood Ghumman

لاہور(ٹی این آئی نیوز )عیدالفطر کی آمد،ایم اینڈ آر ہائی وے بلڈنگ ڈویژن IIلاہور کا 32کالجوں کی مینٹیننس کی مد میں ٹھیکیداروں کی مبینہ ملی بھگت سے قومی خزانہ کو2کروڑ پچاس لاکھ روپے کاچونا لگانے کا انکشاف ہواہے۔ذرائع کے مطابق اعلی افسران کو عیدی پہچانے کے لئے2 ڈویژن کے چارج رکھنے والے ایس ڈی اوسب ڈویژن محمد ادریس  ،اور سب انجینئر محمد عدنان نے جعلی کوٹیشن بل بنا کر قومی خزانے سے 2کروڑ پچاس لاکھ روپے نکلواکر آپس میں بندر بانٹ کرلئے۔تفصیلات کے مطابق ایس ای ہائی وے ایم اینڈ آر کی درخواست پر سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کوحکومت پنجاب نے لاہور ڈویژن کے 32مردوخواتین کالجوں جن میں گورنمنٹ اپوا کالج، گورنمنٹ دیال سنگھ کالج، گورنمنٹ ایم اے اوکالج، گورنمنٹ سائنس کالج،گورنمنٹ کنیئرڈ کالج سمیت32کالجز شامل ہیں ، کی تعمیر ومرمت کے لئے کروڑ وں روپے کی گرانٹ مہیا کی ۔ ذرائع کے مطابق ایس ڈی اوسب ڈویژن IIIمحمد ادریس جس کے پاس ایس ڈی او 2 سب ڈویژن کے چارج ہیں نے (مردکالج )نے ٹھیکیداروں کی مبینہ ملی بھگت سے جعلی کوٹیشن بنا کر 2 کروڑ پچاس لاکھ روپے نکلواکر آپس میں بند بانٹ کرلئے ،اسی طرح دوسری  ایس ڈی او سب ڈویژن سے بھی محمد ادریس  (خواتین کالج)نے بھی جعلی کوٹیشن بنا کر  ٹھیکیداروں کی مبینہ ملی بھگت سے خورد برد کرلئے ہیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ایک کروڑ روپے کے مزید کالجوں کی تعمیر ومرمت کے لئے جعلی کوٹیشن تیار کرکے قومی خزانہ سے نکلوانے کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں، یادرہے کہ 3 سال قبل بھی  سابق ایکسیئن طیب منیر،سابق ایس ڈی او خالد منیر اور موجودہ ایس ڈی او  وغیرہ نے ان کالجز کی تعمیر ومرمت کی مد میں 5کروڑ روپے نکلواکر ہڑپ کرلئے تھے جس پر محکمہ اینٹی کرپشن نے اس وقت کے ڈی جی اینٹی کرپشن مظفر علی رانجھا کے حکم پر ان افسران کے خلاف انکوائری شروع کردی ،جسے بھی مذکورہ افسران نے اینٹی کرپشن کے افسران سے مبینہ ملی بھگت کرتے ہوئے ردی کی ٹوکری کی زینت کرادیا،اس حوالے سے مذکورہ ایس ڈی اوز کا کہنا ہے کہ قومی خزانہ سے ملنے والے فنڈز کو قواعد و ضوابط کے مطابق خرچ کیا جارہاہے ، کرپشن والی بات میں کوئی صداقت نہیں ہے تاہم سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو کیپٹن اسد  کا کہناہے کہ قومی خزانہ کی رقوم کو غلط استعمال کرنے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کرکے محکمہ اینٹی کرپشن میں کیس بھجوایا جائے گا۔

ہائی وے بلڈنگ، کرپشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button