
سینیٹ میں اسٹیٹ بینک بل صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے منظور کرلیا گیا
Editor Arshad mahmood Ghumman
وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز نےنیشنل میٹرولوجی انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کے قیام کیلئے قانون وضع کرنے کا بل پیش کیا جو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔اگلا ایجنڈا اسٹیٹ بنک آف پاکستان ترمیمی بل تھا لیکن اپوزیشن کی اکثریت اور حکومتی اراکین کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے وزیر خزانہ نے بل پیش نہیں کیا جس پر اپوزیشن نے سخت احتجاج کرتے ہوئے بل پیش کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ ووٹنگ میں اسے مسترد کیا جاسکے لیکن حکومت نے بل پیش نہیں کیا۔اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ سے بل پر کارروائی کا مطالبہ کیا، لیکن چیئرمین نے مطالبہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت بل موو نہ کرے تو میں کیا کرسکتا ہوں۔
شیری رحمن نے کہا کہ یہ پول کھل گیا کہ حکومت کو اپنا سب سے اہم بل لاتے ہوئے شکست ہوئی۔عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حکومت اعتراف کرے کہ وہ شکست کھا چکی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے اجلاس 30 منٹ کیلئے ملتوی کرکے دوبارہ شروع کیا تو وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسٹیٹ بنک ترمیمی بل 2022 پیش کردیا۔ بل پر ووٹنگ کرائی گئی تو بل کے حق میں 42 اور مخالفت میں بھی 42 ووٹ پڑے۔ چیئرمین سینیٹ نے بل کے حق میں ووٹ دیا تو بل کے حق میں 43 ووٹ ہوگئے جس کے نتیجے میں صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے بل منظور ہوا۔
اپوزیشن نے ایوان میں شور شرابا کیا اور آئی ایم ایف کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے کےنعرے لگائے۔ انہوں نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں اور ری کاؤنٹ کا مطالبہ کیا۔ لیکن چیئرمین سینیٹ نے اجلاس ملتوی کردیا۔
