پاکستانجرم وسزا

ایل ڈی اے پلاٹوں کی بندر بانٹ، 20 سال بعد نواز شریف کیخلاف نیب لاہور نے انویسٹی گیشن بند کر دی

CEO:Ch Arshad mahmood Ghumman

لاہور(ٹی این آئی نیوز)ایل ڈی اے پلاٹوں کی بندر بانٹ، 20 سال بعد نواز شریف کیخلاف نیب لاہور نے انویسٹی گیشن بند کر دی۔ سابق ڈی جی نیب سلیم شہزاد نے حتمی منظوری کے لیے فائل چیئرمین نیب کو بھجوا رکھی ہے۔نیب ذرائع کے مطابق کمبائنڈ انوسٹی گیشن ٹیم نے انکوائری رپورٹ میں انوسٹی گیشن بند کرنے کی سفارش کی تھی۔ ریجنل بورڈ میٹنگ میں پراسکیوشن ونگ نے بھی انوسٹی گیشن بند کرنے کی سفارش پر عملدرآمد کرنے کی تجویز دی۔ نواز شریف کیخلاف 3 اپریل 2000 کو شکایت موصول ہوئی۔ سابق وزیراعظم سمیت 13 افراد کیخلاف غیر قانونی الاٹمنٹ کے خلاف انکوائری شروع کی۔ چوہدری عبدالرحمٰن، فریدالدین احمد، سید علی کاظم، محمد اشفاق شامل تھے۔ احسان الحق، سید حسنات احمد، کرنل (ر) غضنفرعلی خان، محمد خان، محمد جاوید، محمد سرور بھی شامل تھے۔ رکن الدین، ناظم علی شاہ اور خالد اختر وغیرہ شامل تھے۔
شکایت گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ میاں نواز شریف نے ڈی جی ایل ڈی اے کے ساتھ ملکر ایل ڈی اے پلاٹس کی ایگزمشن دی۔ نواز شریف نے پلاٹس کا کوٹہ ختم کر کے من پسند افراد کو پلاٹ آلاٹ کیے۔ ایل ڈی اے کی پالیسی 1986 کے تحت چیئرمین پلاٹس آلاٹ کرتے تھے۔
ترجمان میاں نواز شریف زبیر عمر نے کہا کہ نواز شریف کیخلاف انکوائری 20 سال سے زیر التوا تھی۔ مبینہ طور پر نواز شریف پر وزیراعلی پنجاب کی حیثیت سے اپنے قریبی لوگوں میں پلاٹ بانٹے کا الزام تھا۔ نواز شریف پر سیاسی بنیادوں پر کیسسز بنائے گئے۔ کیس بنانا اور اعلان کرنا میڈیا ٹرائل کے لئے کیا جاتا ہے۔ نواز شریف کیخلاف ایک بھی کرپشن کا الزام ثابت نہیں ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button