اہم خبریںجرم وسزا

صوبائی درالحکومت کے سستا رمضان بازاروں میں چینی کی لمبی قطاریں ، ناقص پھل فروٹ اور غیر معیاری آٹا کی شکایات روزمرہ کا محمول بن گئ۔

By Editor arshad Mahmood Ghumman

لاہور (ٹی این آئی نیوز)صوبائی درالحکومت کے سستا رمضان بازاروں میں چینی کی لمبی قطاریں ختم نہ ہوسکی ، ناقص پھل فروٹ اور غیر معیاری آٹا کی شکایات سے محمول بن گئ ، مرغی ، مٹن ، بیف ، گوشت کی قمیتں بھی مرضی سے وصول کی جانے لگی ، شہریوں کو رمضان ریلیف کے دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گے ٹی این آئی نیوز  کی جانب سے کیے جانے والے سروے کے دوران معلوم ہوا ہے لیمو اس وقت رمضان بازاروں میں نایاب ہوچکا ہے ، سبزہ زار سستا بازار ، ہربنس پورہ ، گلشن روای ، برکت مارکیٹ سستا بازار میں ناقص پھل فروٹ کی شکایات سے رجسٹرڈ بھر گے ، جبکہ کرونا ایس او پیز کی بھی دھجیاں اڑا کر رکھ دی گی بغیر ماسک ، اور فاصلے کی بجائے رش میں آنا جانا شہریوں نے محمول بنا لیا
جبکہ دوسری جانب سستا رمضان بازاروں میں آلو 33روپے ٹماٹر 29 روپے ادرک 315 روپے کلو پیاز 16 روپے بھنڈی 83 روپے کدو 38 تربوز 40 روپے کلو ، آروڑو 160 روپے کلو آٹاسٹابری 100 روپے کلو ، لگوٹ 150 روپے کلو سیب 170 کیلا 120 روپے کھجور 170 دال چنا 105 بیسن 109 بینگن 31روپے کلو لسن 119 روپے کلو خربوز 40 روپے کلو میں فروخت کیا جارہا ہے مرغی کا گوشت 364 روپے کلو انڈے درجن 145 روپے میں فروخت ہونے لگے اسطرح چینی کے سٹال لگا کر 65 روپے کلو میں لائن لگا کر چینی کی فروخت جاری ہے سستا رمضان بازاروں کی انتظامیہ اور چینی پر تعینات کیے جانے والے پٹواریوں میں چینی کے حصول اور چینی کا تھیلا لینے کیلے ایک دوسرے پر الزامات بھی روٹین کا حصہ بن گے زرائع کے مطابق رمضان بازار میں آنیوالی چینی باہر بازاروں میں بڑے بڑے سٹورز ، اور بیکرز پر بھی تھیلوں کے حساب سے فروخت ہو رہی ہے اس کے علاوہ سیکورٹی کے ناقص انتظامات کی بابت بھی شہریوں کی جانب سے شکایات درج کروائی گی
موٹر بائیک ، سائیکل چوری کے متعدد واقعات بھی رونما ہوئے جس کے بعد بھی کوئی حفاظتی انتظامات نہیں کیے گے سستا رمضان بازار میں لگائے جانے والے سٹالز پر ایم سی ایل ، ریونیو ، محکمہ خوارک ، لائیو سٹاک ، ضلعی انتظامیہ ، ہلیتھ کیر اتھارٹی ، ویسٹ منجمنٹ کمپنی ، اور پرائس کنٹرول ، مارکیٹ کمیٹی کا سٹاف بھی ماجود نظر آیا جو کہ اپنی زمہ داری پوری کرنے کی بجائے گراں فروشوں ، اور زخیرہ اندوزی کرنے والوں کو ُالٹا تحفظ فراہم کرتے ہوئے دیکھائی دئیے ، شہریوں کی ایک تعداد نے جہاں سستا رمضان بازار میں ضلعی انتظامیہ کی کارگردگی کو بہتر قرار دیا تو شہریوں کی زیادہ تر تعداد نے مانٹرینگ کے غیر فعال سسٹم اور افسران کی عدم توجہی کے باعث سستا رمضان بازاروں کو گراں فروشوں کی آماجگاہ قرار دیدیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button