
لاہور پریس کلب سالانہ انتخابات،اعظم چوہدری صدراورعبدالمجیدساجدسیکرٹری منتخب
CEO. Arshad mahmood Ghumman
تحریر:ارشدمحمود گھمن
وطن عزیز میں تین چار پریس کلب ایسے ہیں جہاں جمہوری روایات مستحکم اور انتخابی عمل مضبوط رہا ہے۔لاہور،کراچی،راولپنڈی اور اسلام آباد کے پریس کلبوں کا شمار انہیں میں ہوتا ہے جہاں طے شدہ ضابطے اور مسلمہ قرینے کے تحت عہدیداران کا چناؤ کیا جاتا ہے۔پرسوں پرلےروز لاہور پریس کلب میں انتخابات ہوئے اور صحافی برادری میں جمہوری عمل کو اعتبار اور استناد عطا کر گئے ۔لاہور پریس کلب کے سالانہ الیکشن میں پاینئر پینل فاتح رہا اور اس نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔
لاہور پریس کلب کے سالانہ انتخابات میں پاینئر گروپ کے اعظم چودھری نے 6 سو ووٹوں کی اکثریت سے اپنے مقابل امیدوار ناصرہ عتیق کو شکست دی۔اعظم چودھری نے کل 1167 ووٹ حاصل کیے۔وہ مسلسل دوسری بار لاہور پریس کلب کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔سینئر نائب صدر کی نشست پر شاداب ریاض 939 ووٹ لے کر جیت گئے اور نائب صدر پر ظہیر احمد بابر 831 ووٹ لے کر جیتے۔سیکرٹری کی سیٹ پر عبدالمجید ساجد کامیاب ہوئے اور انہوں نے 1082 ووٹ حاصل کیے۔وہ مسلسل تیسری بار سیکرٹری منتخب ہوئے ہیں۔جوائنٹ سیکرٹری پر حسن تیمور جکھڑ 668 ووٹ لیکر،فنانس سیکرٹری کی نشست پر حافظ فیض احمد 895 ووٹ لے کر جیتے ہیں۔لاہور پریس کلب کی روایت اور تاریخ میں گورننگ باڈی کی بھی 9 نشستیں رکھی گئی ہیں اور یہاں بھی امیدوار منتخب کیے جاتے ہیں۔حالیہ الیکشن میں پاینئر،پروگریسو اور جنرلسٹ گروپ نے حصہ لیا ہے۔پاینئر گروپ باڈی کی سیکرٹری شپ چھوڑ کر باقی کی نشستوں پر کامیاب ٹھہرا۔لاہور پریس کلب کے سیکرٹری عبدالمجید ساجد اصل میں مرنجاں مرنج اور ہر دلعزیز شخصیت ہیں۔لاہور کے اکثر صحافی انہیں ووٹ کی محبت سے نوازتے ہیں ۔وہ لاہور پریس کلب کی سیاست میں خاصے متحرک اور اپنا حلقہ اثر رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے وہ اکثر انتخابات میں جیت جاتے ہیں۔دوسری ان میں یہ خوبی بھی ہے کہ وہ صحافیوں کے کام آنے والے آدمی ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ صحافیوں کے لیے پریس کلب یونیورسٹیوں کادرجہ رکھتے ہیں۔جو صحافی پریس کلب کی سیاست میں فعال ہوتے ہیں وہ ملکی سیاست کو بھی خوب سمجھتے ہیں ۔ملکی سیاست اور پریس کلب کی سیاست میں بھی اساسی اور بنیادی طور پر کوئی خاص فرق نہیں۔دونوں کی سیاست میں منجھے اور ماہر لوگ ہی کامیاب ہوتے ہیں۔
لاہور پریس کلب کے حالیہ الیکشن کی جیت میں مرکزی کردار صحافی کالونی فیز ٹو نے ادا کیا ہے۔جب سے حکومت نے صحافیوں کو چھت دینی شروع کی ہے،پریس کلبوں کے الیکشن بھی خاص اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔اب ہر صحافی کی نظر الیکشن پر ہی جمی رہتی ہے۔
ویسے بھی جن لوگوں نے ملکی سیاست پر خیال آرائی اور طبع آزمائی کرنی ہوتی ہے ،ان کےلیے ضروری ٹھہرا کہ وہ خود الیکشن کی سائنس اور جیت کے آرٹ سے آگاہ ہوں۔اس ضمن میں لاہور پریس کلب اور کراچی پریس کلب کا کردار شاندار اور لازوال ہے ۔ان دونوں شہروں سے قد آور صحافی نکلے اور انہوں نے اپنی کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور ترقی وارتقا کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔لاہور پریس کلب کے سالانہ انتخابات کی اہمیت کا اندازہ آپ اس سے لگائیے کہ نتائج آنے کے فوری بعد وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب،وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو،تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان،جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور دیگر اعلی شخصیات نے پریس کلب کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دی اور نئی باڈی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے باقاعدہ طور پر لاہور پریس کلب کے لیے اپنا بیان جاری کیا اور انہیں اپنے تمام تر تعاون کا یقین دلایا۔اصل میں ملک کے اہم پریس کلب ملکی سیاست اورحکومت کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔حکومتیں اور پریس کلب کے عہدیدار آتے جاتے رہتے ہیں مگر برسر اقتدار حکمرانوں اور پریس کلب کے نئے آنے والے عہدیداروں میں ایک دوسرے کے لیے خیر سگالی کے جذبات باقی اور برقرار رہتے ہیں۔
یورپی اور مغربی ممالک میں یہ ریت اول روز سے رہی ہے کہ وہاں کے پریس کلبوں اور ان کے انتخابات کو حکومتیں سرکاری فنڈز دیتی اور دوسری مراعات اور سہولتیں فراہم کرتی ہیں تاکہ سیاست کے بعد صحافت میں بھی جمہوری عمل کی آبیاری ہو۔صحافیوں کو بھی آگے بڑھنے اور اپنے حلقے کے لیے کام کرنے کے مواقع ملیں۔پریس کلبوں کے الیکشن سے صحافیوں کی سیاسی تربیت بھی ہوتی ہے تاکہ وہ قومی سیاست کا درست اور صائب تجزیہ کر سکیں۔
