اہم خبریں

محکمہ ایکسائز نئی ڈی جی خاتون کی تعیناتی، 20لاکھ متاثریں کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس اور سمارٹ کارڈ کے حصول سے محروم


لاہور(ٹی این آئی ) نئی خاتون ڈی جی ایکسائز صالحہ سعید کی تعیناتی سے بھی20لاکھ کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس اور سمارٹ کارڈ کے حصول کامتاثرین کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو ہوسکا،یادرہے کہ اب تک اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے حکومت پنجاب 4ڈی جی ایکسائز تبدیل کرچکی ہے لیکن یہ مسئلہ جوں کا توں ہے ،متاثرین گاڑی مالکان کی جانب سے دفتر کے متعددچکر لگانے کے باوجود خواری کے سوا کچھ نہ ملا ۔ تفصیلات کے مطابق تبدیلی سرکار نے اقتدار میں آنے کے بعد فوری طور پرسابق حکومت کے مذکورہ منصوبہ کو محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو گاڑیوں کے مالکان کو بروقت کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس اور سمارٹ کارڈ کے اجرا کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب نے افتتاح تو کردیا مگر سابق سیکرٹری و ڈی جی کی عدم توجہی اور ناقص حکمت عملی کے سبب پنجاب بھر میں نیو گاڑیوں کی رجسٹریشن کی 20لاکھ کمپیوٹر نمبر پلیٹس سے گاڑی مالکان محروم رہے جبکہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن موٹر رجسٹریشن نے ایک سال میں 2ارب50کروڑ روپے ایڈوانس نمبر پلیٹس کی مد میں شہریوں سے بٹورلئے،واضح رہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے متعدد بار متعلقہ محکمہ کے 4ڈی جی تبدیل کئے گئے جس کے باجود تاحال مذکورہ کمپیوٹرائزڈنمبرپلیٹس التواءکا شکار ہیں،مارچ 2019ءسے 2020ءمیں ایک سال مکمل ہونے کے بعد بھی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن موٹر رجسٹریشن 10لاکھ گاڑیوں کے مالکان کوکمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس جاری کرنے میں ناکام رہا جس میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن موٹر رجسٹریشن ریجن سی فرید کورٹ ہاو س لاہورسمیت پنجاب بھر کے 9ریجن شامل ہیں،مذکورہ محکمہ نے نمبرپلیٹس کی مد میں تقریباً2 ارب 50کروڑ روپے وصول کررکھے ہیں،محکمہ فی کس کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس کے تاحال1250 روپے شہریوں سے وصول کررہاہے،یادرہے کہ سابق حکومت نے کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس اور سمارٹ کارڈ کے اجراءکے لئے بھی قومی خزانہ سے کروڑوں روپے خرچ کئے تھے، بعدازاں تبدیلی کا نعرہ لے کر آنے والی موجودہ حکومت نے باقاعدہ طور پر نیورجسٹریشن کاخاتمہ کرکے سمارٹ کارڈ کااجراءبھی شروع کردیا تھالیکن ایک سال گزرنے کے باوجود بھی سیکرٹری اور ڈی جی ایکسائز کی ناقص حکمت عملی کے باعث رواں سال کے دوران بھی نیو رجسٹریشن گاڑیوں کے مالکان کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس اور سمارٹ کارڈ حاصل کرنے کے لئے دفاتر کے چکر لگالگاکرخوارہوگئے ہیں،مذکورہ محکمہ کے افسران آئے روز ہزاروں سائلین جوسمارٹ کارڈ اور نمبر پلیٹس حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں،انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے نئی تاریخ دے دی جاتی ہیں،ذرائع ایکسائز کے مطابق سمارٹ کارڈ اور نمبر پلیٹس کے حصول کے لئے لوگ کئی مہینوں سے دھکے کھارہے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور آئے روز نیا بہانہ بنا کر انہیں آئندہ تاریخ دے دی جاتی ہے جس کے بعد بھی انہیں یہاں آنے پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،انہوں نے مزید بتایا کہ گاڑی کی کمپیوٹر نمبر پلیٹ نہ ہونے کی وجہ سے پنجاب پولیس،ٹریفک وارڈنز اورمحکمہ ایکسائز کاعملہ بلاوجہ بہانے بنا کر تنگ کرکے پیسے بٹورنے میں مصروف ہے،بعدازاں حکومت پنجاب نے اس بحران کو حل کرنے کے لئے نئی خاتون ڈی جی صالحہ سعید کی تعیناتی عمل میں لائی مگر مذکورہ ڈی جی بی دفتری میٹنگز اور دیگر مسائل سے دوچار ہونے کے باعث بھی اس مسئلے کو حل کرنے میںناکام رہی ہیں ،اس حوالے سے ڈی جی ایکسائز صالحہ سعید سے رابطہ کیا گیاتوانہوںنے کہا کہ دوران تعیناتی بہت سے مسائل تھے جنہیں حل کرنے کی کوشش کی اور ان میں سے بہت سے کئے بھی ہیں تاہم کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس اور سمارٹ کارڈ کامسئلہ بھی جلد حل ہوجائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button