اہم خبریںپاکستان

مختلف شعبوں، وزارتوں، وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندگان کو اکٹھا کرنا ضروری ہے تاکہ مل کر گورننس کے نظام میں بہتری لائی جا سکے,احسن اقبال وفاقی وزیر

CEO.arshad Mahmood Ghumman

اسلام آباد(ٹی این آئی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کا گورننس چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی و علاقائی مکالمے کی کی اہمیت پر زور

وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے گورننس فورم 2024 کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فورم کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اسے ملک میں گورننس کے چیلنجز پر بامقصد مکالمے اور اصلاحات کے لیے ایک کلیدی پلیٹ فارم قرار دیا۔ اس اجلاس میں اہم قومی و بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے، جن میں ایڈیشنل سیکریٹری پلاننگ جناب کامران رحمان، یو این ڈی پی پاکستان اور ایف سی ڈی او کے اعلیٰ نمائندگان شامل تھے۔

پروفیسر احسن اقبال نے اپنے خطاب میں گورننس فورم کو "آئیڈیاز کلیئرنگ ہاؤس” کے طور پر بیان کیا، جہاں بین الاقوامی اور ملکی ماہرین گورننس کے مسائل پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مختلف شعبوں، وزارتوں، وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندگان کو اکٹھا کرنا ضروری ہے تاکہ مل کر گورننس کے نظام میں بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا، "ہم سب اچھی حکمرانی کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں، لیکن ایسے پلیٹ فارم بہت کم ہیں جو حکومت کے مختلف شعبوں میں گورننس کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ مکالمے اور سوچ بچار کا موقع فراہم کریں۔”

وزیر منصوبہ بندی نے گورننس فورم کی پچھلی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فورم کے پہلے تین سیشنز نے ملک بھر میں گہری دلچسپی اور بامقصد مباحثے کو فروغ دیا۔ 2022 میں منعقد ہونے والے فورم کی خاص طور پر تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نے قومی سطح پر گورننس کے مسائل پر ایک تعمیری مکالمے کا آغاز کیا. پروفیسر اقبال نے امید ظاہر کی کہ آئندہ پانچ سالوں میں گورننس فورم کو ایک مستقل سالانہ ایونٹ کے طور پر ادارہ جاتی حیثیت دی جائے گی تاکہ یہ ملک میں گورننس کے فروغ کے لیے ایک مستحکم پلیٹ فارم بن سکے۔

پروفیسر احسن اقبال نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ گورننس فورم ایک مرکز کی شکل اختیار کر سکتا ہے جہاں جنوبی ایشیائی ممالک کے نمائندگان اکٹھے ہو کر گورننس کے مسائل اور چیلنجز پر تبادلہ خیال کر سکیں۔ انہوں نے کہا، "جنوبی ایشیا میں ایک دوسرے سے سیکھنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور دیگر ممالک کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے کیونکہ ہم سب نے برطانوی پارلیمانی جمہوریت اور قانونی نظام کا ورثہ پایا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ دیگر ممالک نے کیا اصلاحات کی ہیں اور مشترکہ چیلنجز سے کیسے نمٹا ہے۔”

وزیر منصوبہ بندی نے فورم کو قومی سطح پر مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ فورم ایک ایسا مرکز بن سکتا ہے جہاں پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر گورننس کے نظام میں بہتری لا سکتے ہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر پروفیسر احسن اقبال نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گورننس فورم مستقل محنت اور تسلسل سے پاکستان اور جنوبی ایشیا میں گورننس کی اصلاحات کے لیے ایک اہم ایونٹ بن سکتا ہے۔

فورم میں موجود بین الاقوامی تنظیموں اور حکومتی شعبوں کے نمائندگان نے پروفیسر اقبال کے وژن کو سراہا اور گورننس چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ مکالمے اور عملی حل کی حمایت میں اپنی مکمل وابستگی کا اظہار کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button