لاہور(ٹی این آئی نیوز)صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں 25 لاکھ شہری2 ارب سے زائدکی ادائیگی کے باجود کمپیوٹر رائزڈ نمبر پلیٹس کے حصول کے لئے ایکسائز موٹررجسٹریشن اتھارٹی کےمتعلقہ دفاترکے دربدرٹھوکریں کھانےپر مجبورہوگئے، مذکورہ محکمہ کی جانب سے شہریوں کوکمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس کے حصول کیلئے دوبارہ متعلقہ دفاتر سے رجوع کرنے سے مشروط کردیاگیا،واضح رہے کہ دوسری جانب کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹ نہ رکھنے والے شہریوں سے پنجاب پولیس بھی مبینہ طور پرمٹھی گرم کرنے میں مصروف ہے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے گزشتہ دو سال سے پنجاب بھر کے 9ریجن لاہور سمیت گوجرانوالہ،شیخوپورہ،فیصل آباد،ملتان،بہاولپور،ساہیوال،سرگودھا،راولپنڈی سےتقریباً 25لاکھ نیو گاڑیوں کی رجسٹریشن کروانے والے شہریوں سے 2 ارب 50کروڑ روپے وصول کررکھے ہیں،مگر محکمہ کی ناقص حکمت عملی کے باعث مذکورہ افراد کو محکمہ کی جانب سے کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹ جاری نہیں کرسکا،اب مذکورہ محکمہ نیوگاڑیوں کی رجسٹریشن کروانے والے افراد کو کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹ جاری کررہاہے لیکن اس سے قبل 25لاکھ شہری جو گاڑیوں کی نیو رجسٹریشن کے بعد کمپیوٹرائزڈ نمبرپلیٹس کے حصول کے لئے اب تک دھکے کھارہے ہیں،ذرائع کا کہناہے کہ محکمہ کی جانب سے اب یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے افراد جو تاحال نمبرپلیٹس سے محروم ہیں وہ دوبارہ اپنے متعلقہ ایکسائز کے دفاتر سے رجوع کریں، حالانکہ محکمہ ایکسائز نے فی گاڑی کی کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹ کی مد میں 1200روپے وصول کررکھاہے جس میں گاڑی مالکان سے انہیں موجودہ ایڈریس پر نمبرپلیٹس بذریعہ پارسل بھجوانے کے واجبات کی وصولی بھی شامل ہے،جس کامحکمہ پابند ہے مگر اعلیٰ افسر اپنی نالائقی چھپانے کی خاطراس کی ذمہ داری مذکورہ نمبر پلیٹس سے محروم شہریوں پر ڈالنے کے درپے ہیں۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی تعیناتی نہ ہونے کی وجہ سے محکمہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے جبکہ حکومت پنجاب نے تین ماہ کے لئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل رضوان اکرم شیروانی کو بطور ڈائریکٹر جنرل کے اختیارات تفویض کر رکھے ہیں جس کی مدت معیاد 3ماہ 23 دسمبر 2021 کو ختم ہو جائے گی ذرائع نے بتایا کے مذکورہ ڈائریکٹر جنرل دوبارہ تعیناتی کے لئے بھی اعلی افسران پر دباؤ بڑھانے کے لئے سفارشوں کا سلسلہ تیز کر رکھا ہے۔یاد رہے کے مذکورہ ڈی جی رضوان اکرم شیروانی سمیت 5 ڈائریکٹرزکے خلاف اینٹی کرپشن نے قومی خزانہ کے اربوں روپے خورد برد کرنے کے الزامات پرایک سال قبل فراڈ،جعلسازی کا مقدمہ بھی درج کر رکھا ہے جس کی مذکورہ ڈی جی نے عبوری ضمانت عدالت عالیہ سے حاصل کر کھی ہے۔رضوان اکرم شیروانی پر بطور ڈائریکٹر کرپشن کا مقدمہ درج ہونے کے بعد بطور ڈی جی تعیناتی پراعلی افسران پر بھی سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں تاہم اس حوالے سے ڈی جی ایکسائیز رضوان اکرم شیروانی کا کہنا ہے کہ مقدمہ کی بابت عبوری ضمانت پر ہوں جس کی تفتیش ابھی نہ مکمل ہے۔اس حوالے سے سیکرٹری ایکسائیز وقاص علی محمود کا کہنا ہے کہ بہت جلد نمبر پلیٹوں سے محروم رہنے والے شہریوں کو بھی نمبر پلیٹس فراہم کردی جائیں گی اور نئے ڈی جی کی تعیناتی کے حوالے سے اعلی افسران سے مشاورت جاری ہے۔
Like this:
Like Loading...