
انہوں نے کہا کہ اگر رات کے اندھیرے میں کوئی واقعہ ہوجائے تو حکومت کی ذمہ داری ہے اس کو روکے، دہشتگردی کا واقعہ اگر ہوتو کون ذمہ دار ہوگا؟۔
عابد شیر علی نے کہا کہ ہر روز جیل کے قیدی سے ملاقات نہیں ہوسکتی، بانی پی ٹی آئی کو سبی جیل میں پھینکیں یا اٹک قلعے میں رکھیں، جیسے نوازشریف کو رکھا ویسے بانی پی ٹی آئی کو رکھا جائے تو جیل کا معلوم ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ دیگر قیدیوں کو دیسی مرغے کی یخنی ملتی ہے نہ ورزش کی سہولیات، عمران خان کے پاس 5 کمرے ہیں، مشقتی ہے، وہ تو انجوائے کر رہے ہیں، ان کو سبی جیل میں پھینکیں، ہتھکڑی لگا کر اٹک قلعے کی چار دیوار میں رکھیں جیسے نواز شریف کو مہینوں رکھا گیا تو پتا چلے کہ جیل کسے کہتے ہیں۔
