
پنجاب کی سیاسی شطرنج
تحریر:ارشدمحمود گھمن
پنجاب میں سیاسی شطرنج کی بساط بچھی ہے اور ہر کھلاڑی اپنی چل چل رہا ہے۔کوئی چال چل رہا ہے تو کوئی داؤ لگا رہا ہے۔بعضوں کو گماں غالب کہ 11 جنوری کو ہی وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی اعتماد کا ووٹ لیں گے۔سو سوالوں کا ایک سوال کہ کہ پرویز الہی پنجاب اسمبلی کے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے؟باخبر ذرائع کے مطابق ووٹنگ کے دن مسلم لیگ قائد اعظم کے چار پانچ ارکان یا غیر حاضر ہونگے یا پھر وہ اپنی پارٹی کے صدر چودھری شجاعت کی شہہ پر ووٹ دینے سے انکار بھی کر سکتے ہیں۔
چودھری پرویز الہی تو خیر بیک وقت کئی چالیں چالیں رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ایک ہی وقت میں آصف زرداری کا بھی مان رکھناہےتو دوسری جانب وہ تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کو راضی رکھنے کے لیے ہزار پاپڑ بیلیں گے۔پھر چودھری پرویز الہی کا ایک مضمصہ یہ بھی ہے کہ وہ نواز شریف اور شہباز شریف کے بھی قریب آنے کی کوشش کریں گے۔پنجاب میں سیاسی شطرنج کے اس کھیل میں پرویز الہی کی پوری کوشش ہو گی کہ وہ پیادے سے بادشاہ کو مات دے سکیں۔مسلم لیگ ق کے ایک قریبی ذریعے نے اس نمائندے کو رازدارانہ انداز میں بتایا ہے کہ پرویز الہی کی پوری کوشش ہے کہ اعتماد کا ووٹ لینے سے پہلے پہلے وہ عمران خان سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا معاہدہ چاہتے ہیں۔گجرات،منڈی بہاؤالدین،جہلم،حافظ آباد،گوجرانوالہ،سیالکوٹ،لاہور، بہاولپور ،چکوال کے علاوہ بلوچستان اور پختونخوا سے بھی وہ کچھ نشستیں چاہتے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے عمران خان ان کا کتنا دباؤ قبول کرتے ہیں۔کرتے بھی ہیں یا نہیں ،اس کا فیصلہ چند دنوں میں ہو جائے گا۔واقفان حال کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں شاہ محمود قریشی،اسد عمر،راجہ بشارت اور پرویز خٹک سے گارنٹی بھی مانگی گئی ہے ۔ایک دوسرے ذرائع کے مطابق جب پنجاب اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے کا وقت آئے گا تب مسلم لیگ ق کے بعض پارلیمنٹرین چودھری شجاعت کے صدر کے اختیارات استعمال کرنے پر ووٹ دینے سے منحرف بھی ہو سکتے ہیں۔سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کے استعفی کی بازگشت بھی سنی جا رہی ہے۔

مسلم لیگ ن نے بھی اپنا جوابی پلان مرتب کر رکھا ہے ۔مسلم لیگ ق کے جو ارکان ووٹنگ والے دن غیر حاضر ہونگے یا پھر استعفے دینے پر رضامند ہونگے انہیں عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔چودھری شجاعت کو اس کی یقین دہانی کرائی گئی ہے اور اس کی گارنٹی آصف علی زرداری نے دی ہے۔سیاسی شطرنج کی بساط پر علیم خان اور جہانگیر ترین بھی پیچھے رہ کر مہرے بدل رہے ہیں۔انہوں نے تحریک انصاف کے بعض ایم پی ایز کو وفاداری تبدیل کرنے یا غیر حاضر رہنے پر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کا وعدہ کیا ہے۔مسلم لیگ ن لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے خوش نہیں۔رانا ثنا اللہ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اس فیصلے میں قانونی سقم ہیں اور سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے۔پنجاب اسمبلی کو بچانے کے لیے اور ہائیکورٹ کے عبوری حکم کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے لیے قانونی مشاورت جاری ہے۔کہا جاتا ہے اعظم نذیر تارڑ اور عرفان قادر نے شہباز شریف کو اس پر بریفنگ بھی دی ہے۔اصل میں اسمبلی کو تحلیل ہونے سے بچانے کے لیے بھی مسلم لیگ ن عدالت عظمی کے در پر دستک دے سکتی ہے ۔ایسی صورت میں میں جنوری ،فروری گزر گیاتو آگے رمضان شروع ہو جائے گا اور یوں اسے اچھا خاصاوقت مل سکتا ہے۔پنجاب کی حکومتی گاڑی اس وقت گہری کھائی میں گر چکی ہے اور اسے نکالنے کی بجائے فریقین اس کے اسٹئرنگ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔پی ڈی ایم کی ہر صورت کوشش ہو گی کہ اسمبلی کی تحلیل روکی جائے خواہ اس کے لیے پرویز الہی کو ہی وزیر اعلی کیوں نہ ماننا پڑے ۔اس منظر نامے میں اگر مونس الہی کی کوئی خواہش نہ ہوتی تو یقینا پرویز الہی کے لیے کوئی بھی فیصلہ کرنا آسان تھا۔لیکن مونس الہی عمران خان کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں خواہ اس کی کتنی بھی قیمت کیوں نہ دینی پڑے۔اسی لیے پرویز الہی ہروز صبح اٹھ کر کہتے ہیں کہ ہم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔حالانکہ حقیقت کافی مختلف ہے۔کیونکہ وہ کنارے کے دونوں جانب کھڑے ہیں۔ آج کی صورت حال یہ ہے کہ پرویز الہی نے اسمبلی توڑنے کی سمری دستخط کرکے عمران خان کو دی ہوی ہے اور نہ توڑنے کا دستخط شدہ حلف نامہ عدالت کو بھی دیا ہوا ہے۔گویا شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور ووں بھی۔
عجب تری سیاست،عجب ترا نظام
حسین سے بھی مراسم یزید کو بھی سلام
