اہم خبریںجرم وسزا

وزیراعظم پاکستان کے ویژن کی دھجیاں اڑانے میں ڈی جی ایل ڈی اے کی ناک تلے چیف ٹاؤنز پلانر کے عملہ کا نمایاں کردار

CEO:Arshad mahmood Ghumman

لاہور( ٹی  این  آئی نیوز) وزیر اعظم عمران خان کا ویثرن خطرے میں پڑ گیا۔لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اعلی افسران صوبائی دارالحکومت میں غیر قانونی تعمیرات رکوانے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے ہیں۔مین فیروز پور روڈ فاضیلہ سٹاپ نزد جامع اشرفیہ پر واقع افسران کی آشیر باد سے بڑے بڑے کمرشل پلازے اور مارکیٹس بغیر نقشہ کے غیر قانونی طور پر تعمیر ہونے لگے ہیں اور ایل ڈی اے کے متعلقہ افسران مکمل طور پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو غیر قانونی تعمیرات رکوانے کا حکم دیا تھا۔لیکن ایل ڈی اے کے متعلقہ ڈائریکٹر،ڈپٹی ڈائریکٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کی ملی بھگت سے مین فیروز پور روڈ پر ہی غیر قانونی طور پر 3 منزلہ زم زم پلازہ تعمیر کروانے کا کام جاری ہے۔بتایا گیا ہے کہ اس میں مبینہ طور پر سابق ڈائریکٹر ٹاون پلاننگ اور موجودہ میٹروپولیٹن پلاننگ کی ڈائریکٹر عائشہ مطاہر اس کو بنوانے میں شامل ہیں۔جبکہ اس کے بالکل سامنے غیر قانونی طور پر ایک اور پلازہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔جس پر لائٹس لگا کر ڈھڑا ڈھڑ کام جاری ہے۔محکمہ ماحولیات نے بھی لاہور شہر میں بڑھتی ہوئی سموگ کا ذمہ دار غیر قانونی تعمیرات کو ٹھہرایا تھا۔اس میں اہم بات یہ بھی ہے کہ ایل ڈی اے کے متعلقہ افسران نے 12 ربیع الاول کی چھٹیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاری لکشمی لے کر مذکورہ مالکان کو ان غیر قانونی تعمیرات کرنے کی کھلی چھٹی دے دی ہے تاکہ پتہ بھی نہ چل سکے۔اسی لیئے موقع پر ہفتہ کی رات سے ہی وہاں پر دن رات کام تیزی سے جاری ہے اور رات کو بڑی مہارت سے بڑی لائٹس لگا کر غیر قانونی تعمیرات کا کام کیا جا رہا ہے۔اسی طرح ایل ڈی اے کی بعض دیگر سکیموں میں بھی غیر قانونی تعمیرات کا کام جاری و ساری ہیں۔اس میں خاص اور اہم بات یہ بھی ہے کہ ان غیر قانونی تعمیرات سے اعلی افسران بھی بخوبی واقف ہیں۔لیکن ان کی پر اسرار خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔وزیر اعظم عمران خان،وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار،ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب محمد گوہر نفیس،ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑ اور چیف ٹاﺅن پلانر طاہر میو اس کا فوری طور پر نوٹس لیں۔مذکورہ تمام غیر قانونی تعمیرات کو فوری طور پر ختم کروایا جائے اور زمہ داران افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔تاکہ ایل ڈی اے کے خزانے کو مزید بھاری مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button