اہم خبریںپاکستان

نگران وزیراعلیٰ کی وفات آئین خاموش ہے، نئے وزیراعلیٰ کی تقرری کیلئے کوئی قانون موجود نہیں،سپریم کورٹ کے سینئر وکلا اور ماہرین قانون نے سوالات اٹھا دیئے؟

C.E.O.Arshad Mahmood Ghumman

پشاور(ٹی این آئی نیوز)سپریم کورٹ کے سینئر وکلا اور ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ نگران وزیراعلیٰ کی وفات پر آئینی بحران نظر آ رہا ہے، نئے وزیراعلیٰ کی تقرری کیلئے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔نجی نیوزچینل سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر قانون بابر خان یوسفزئی کا کہنا تھا نگران وزیراعلیٰ کی وفات سے صوبائی کابینہ تحلیل ہو گئی ہے اور اختیارات گونر کے پاس چلے گئے ہیں۔

 

بابر خان یوسفزئی نے کہا کہ منتخب وزیراعلیٰ کی وفات پر نئے وزیراعلی کے انتخاب کیلئے قانون ہے لیکن نگران وزیراعلیٰ کی وفات پر نئے وزیراعلی کی تقرری کیلئے قانون موجود نہیں ہے، نئے وزیراعلیٰ اور کابینہ کیلئے لازمی عدالت سے رجوع کرنا ہو گا۔

سینئر قانون دان اور سپریم کورٹ کے وکیل قاضی جواد احسان نے نجی  نیوز چینل کو بتایا کہ نگران وزیراعلیٰ کے انتقال کی صورت میں آئین خاموش ہے، آرٹیکل 224 منتخب حکومت کے جانے کے بعد نگران حکومت مقرر کرنے کیلئے ہوتا ہے، نگران حکومت کیلئےکوئی قانون نہیں لیکن آرٹیکل 224 میں کوئی ممانعت بھی نہیں ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ صوبے کے اہم امور چلانے کیلئے فوری قائم مقام وزیراعلیٰ منتخب کرنا ضروری ہے۔خیال رہے کہ نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اعظم خان مختصر علالت کے بعد آج انتقال کر گئے، انہیں گزشتہ روز طبیعت خراب ہونے پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button