
اسلام آباد (ٹی این آئی)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات، احسن اقبال کی زیر صدارت تعلیمی ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شیزا فاطمہ خواجہ، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، وزارت تعلیم، یونیسف، یو این ڈی پی، ایف سی ڈی او، یونیسکو، ورلڈ بینک، اے ڈی بی، ملالہ فنڈ، آئی ٹی اے، اور غلام اسحاق خان یونیورسٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے پاکستان کی تعلیمی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا اور کہا کہ ایجوکیشن انڈیکس کی رپورٹ ہمیں باور کراتی ہے کہ ہمیں تعلیمی شعبے میں فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ تعلیم کی شرح محض 60 فیصد ہے، جو ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانا نہیں، بلکہ انہیں معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ہر بچے کو بنیادی کمپیوٹر اور جدید تکنیکی تعلیم سے آراستہ کرنا ضروری ہے، اور اس کے لیے جدید طرز کی لیبارٹریوں کا قیام بھی ناگزیر ہے۔ احسن اقبال نے اساتذہ کی تربیت کو ایک اہم چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کی بہتر تربیت کے بغیر تعلیمی اصلاحات ممکن نہیں ہیں۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ ہر فرد اعلیٰ تعلیم یا پی ایچ ڈی کے میدان تک نہیں پہنچ سکتا، اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو ابتدائی تعلیم کے ساتھ فنی اور تکنیکی مہارتیں بھی سکھائی جائیں تاکہ وہ عملی زندگی میں کارآمد ثابت ہو سکیں۔ انہوں نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ نصاب میں کئی خامیاں ہیں جنہیں دور کر کے نصاب کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
احسن اقبال نے کہا کہ 2010 میں 18ویں ترمیم کے بعد تعلیم کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہونے کے باعث تعلیمی شرح میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت اور انسانی وسائل پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا، کیونکہ پاکستان دنیا میں ہیپاٹائٹس، ٹی بی، ذیابیطس اور پولیو کے کیسز میں سرفہرست ممالک میں شامل ہے، جو کہ ہمارے لیے باعث تشویش ہے۔
وفاقی وزیر نے اجلاس میں موجود تمام اسٹیک ہولڈرز اور بین الاقوامی شراکت داروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو ان بنیادی مسائل میں اکیلا نہیں چھوڑے گی، بلکہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں عملی اقدامات کرے گی۔
اجلاس کے اختتام پر احسن اقبال نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار اصلاحات، استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل پر ہوتا ہے۔ کوئی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ استحکام کے اصول پر عمل نہ کرے۔ ہمیں روزمرہ کی تبدیلیوں سے بچتے ہوئے طویل المدتی پالیسیاں اپنانا ہوں گی۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ آج سے 24 سال بعد، جب ہم اپنی آزادی کے 100 سال مکمل کر رہے ہوں گے، ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم نے کیا حاصل کیا اور آئندہ 24 سالوں میں ہم کہاں کھڑے ہونا چاہتے ہیں
**
