
لاہور(ٹی این آئی نیوز)پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنما حسن مرتضیٰ نےکہا ہےکہ پیپلزپارٹی انتقام نہیں لیتی، چیزوں کو بہتر کرنے کے لیے مہلت دیتی ہے ، سارا نظام ایک لمحے میں ڈی ریل کیا جاسکتا ہے لیکن پیپلزپارٹی نے جلدی بازی کے بجائے مزید بہتری کی کوشش کا فیصلہ کیا۔اسلام آباد میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے حسن مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی سی ای سی نےفیصلہ کیا کہ ہمیں جلدی نہیں کرنی، مزید بہتری کی کوشش کرنی ہے، سارے سسٹم کو ایک لمحے میں ڈی ریل کیا جاسکتا ہے، لیکن پیپلزپارٹی کی قربانیوں سے سسٹم بحال ہواہے، آج پارلیمان تو پانچ سال پورے کرتی ہے لیکن کوئی بھی حکومت پانچ سال پورے نہیں کرپاتی۔
صحافی نے سوال کیا کہ کیا پیپلزپارٹی مریم نواز سے ان کی مبینہ بدتمیزی پر معافی کے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئی ہے؟ اس پر حسن مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ بدتمیزی تو بہت چھوٹی چیز ہے، شاید یہ ان کے لاشعور میں ہے، ہم اسے محسوس بھی نہیں کرتے، پارٹی ترجمان لفظوں کے چناؤ اور کیمونیکیشن اسکل کو بہتر کرلیں تو پھر سیاست دان تماشا نہیں بنیں گے، آج بھی ہم سڑکیں بنانے کے لیے اربوں روپے قرض لے رہے ہیں توموسمیاتی تبدیلی کے لیےکیوں نہیں بات کرتے۔
حسن مرتضیٰ نے پنجاب حکومت پر سیلاب میں غلط اعداد و شمار بتانےکا الزام لگاتے ہوئےکہا کہ اتنی کشتیوں میں لاکھوں لوگ ایک ہفتے میں ریسکیو نہیں کیے جاسکتے، موجودہ کشتیوں میں اتنے لوگوں کو ریسکیو کرنے میں کم از کم 6 ماہ لگ جائیں، آپ کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت فوری امداد کا طریقہ پسند نہیں تھا، اب جو امداد شروع ہوئی ہے وہ کس میکنزم کے تحت ہے۔
جبکہ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے حسن مرتضیٰ کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ پیپلزپارٹی حسن مرتضیٰ کے بیان کو خود دیکھے گی یا ہم جواب دیں؟ کیا حسن مرتضیٰ اپنی قیادت کے خلاف سازش کر رہے ہیں؟عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ معافی آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو مانگنی چاہیے جن کے کنٹرول میں آپ جیسے ہارے ہوئے لوگ بھی نہیں، پیپلزپارٹی کی قیادت کو حسن مرتضیٰ کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے ، پیپلزپارٹی کے پنجاب سے ہارے ہوئے کچھ لوگوں کو مسلم لیگ ن اقتدار میں بیٹھی اچھی نہیں لگ رہی ۔

