اہم خبریںپاکستان

صدرمملکت نے پاکستان کے پہلے  چیف آف ڈیفنس فورسز کا تقرر کر دیا۔ چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفینس سٹاف مقرر ہو گئے

وزیراعظم شہباز شریف نے آج پرائم منسٹر ہاؤس سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پاکستان کا پہلا چیف آف ڈیفینس فورسز بنانے کے لئے طریقہ کار کے مطابق سمری بھیجی تھی

اسلام آباد(ٹی این آئی نیوز)صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کے پہلے  چیف آف ڈیفنس فورسز کیا تقرر کر دیا۔ چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفینس سٹاف مقرر ہو گئے۔ صدر آصف علی زرداری  دوسری مرتبہ پاکستان کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی صدارت کے ادوار مین پاکستان مییں کئی اہم ترین کام ہوئے۔ آج مسلح افواج کی نئی ہرارکی کے سب سے بڑے عہدے پر پہلا تقرر نامہ بھی ان کے دستخط سے جاری ہوا ہے۔

 

                                           

وزیراعظم شہباز شریف نے آج پرائم منسٹر ہاؤس سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پاکستان کا پہلا چیف آف ڈیفینس فورسز بنانے کے لئے طریقہ کار کے مطابق سمری بھیجی تھی۔ ایوان صدر میں اس سمری کو صدرِ مملکت کی پہلی فرصت میں ان کے سامنے پیش کیا گیا ۔ صدر آصف علی زرداری نے پہلے چیف آف ڈیفینس سٹاف کے تقرر کی سمری کو منظور کر دیا۔
صدر مملکت نے ائیر چیف ائیر مارشل ظہیر احمد بابر سِدھو  کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری پر بھی دستخط کر دیئے ہیں۔

چیف آف ڈیفینس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو  6 مئی کی رات سے 10 مئی صبح تک بھارت کی بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے اور ایٹمی طاقت کے حامل حریف کو گھنٹوں پر گر کر جنگ بندی کرنے تک مجبور کر دینے اور جدید وارفئیر کی شاندار ترین کمپیکٹ جنگ میں مسلح افواج کی قیادت کرنے پر  فورر سٹار جنرل سے فیلڈ مارشل کے عہدہ پر ترقی دے دی گئی تھی۔ پاکستان کے وزیراعظم اور اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے مینٹور اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے  نئی روایت رقم کرتے ہوئے فیلڈ مارشل کو مل کر بیٹن آف کمانڈ سونپی تھی۔  باضابطہ طور پر 22 مئی 2025 کو پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم نے  سید عاصم منیر فیلڈ مارشل کی رسمی لاٹھی سے نوازا تھا۔  دو اہم ترین سویلینز کے ہاتھ سے ملنے والی یہ بیٹن ایٹمی طاقت کے مالک حریف کے ساتھ حالیہ جنگ اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے دوران ان کی "غیر معمولی فوجی قیادت” کے اعتراف  کا محبت بھرا اظہار تھی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button