محکمہ سوئی گیس اور (سی این جی )اسٹیشنوں کےعملہ کی ملی بھگت گیس کا پریشر پورا کرنے کے لئے گھریلو صارفین کو لوڈشیڈنگ کا سامنا ۔

سیالکوٹ (ٹی این آئی) ضلع سیالکوٹ کے معتبر حلقوں نے محکمہ سوئی ناردرن گیس سیالکوٹ کے عملہ پر الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ سیالکوٹ کےکچھ کر پٹ ملازمین نے مبینہ طور پر سمبڑیال، پکا گڑھا،اگو کی ، بیگووالہ، کے علاقوں میں سی این جی اسٹیشنوں سے مک مکا کر سی این جی اسٹیشنوں کا پریشر پورا کرنے کے لئے ان علاقوں کے گھریلو صارفین کو غیر قانونی طریقے سے گیس لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑا رکھا ہےجس کی وجہ سے گھریلو صارفین کو گھنٹوں بھر لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔ذرائع نے بتایاکے شام ہوتے ہی شدید سردی اور دھند کی وجہ سی این جی اسٹیشنوں کا پریشر کم ہو جاتاہے اور سی این جی مالکان نے گیس والز پر ڈیوٹی دینے ملازمین کے ساتھ مبینہ طور طمع نفسانی کی خاطر گیس مالکان کو فائدہ دینے کی خاطر گھریلو صارفین کے گیس والز بند کر کے مبینہ طور پر سی این جی اسٹیشنوں کے پریشر کو پورا کیا جاتا ہے ۔جس کی وجہ سے گھریلو صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے اور ان کو کھانا بنانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے مگر عملہ سوئی گیس سیالکوٹ نے طمع نفسانی کی خاطر تبدیلی سرکار کے ویژن کا ستیا ناس کر کے رکھ دیا ہے یاد رہے عوام پہلے ہی تبدیلی سرکار کی طرف سے ملنے والی بیروزگاری، مہنگائی سے نالاں ہیں مگر اوپر سے سوئی گیس سیالکوٹ کے عملہ نے بھی تبدیلی سرکار کے ویژن کی دھجیاں اڑانے میں مصروف عمل ہے۔جس پر ضلع سیالکوٹ کےگھریلوں صارفین نے وزیراعظم پاکستان عمران خان ،وفاقی وزیر پیٹرولیم قدرتی گیس عمر ایوب اور سوئی ناردرن گیس کے مینجنگ ڈائریکٹر عامر طفیل سے ذمہ دران افسران کے خلاف فوری ایکشن کا مطالبہ کرتے ہو ئے غیر قانونی طریقہ سےشام 6 بجے سےلےکر رات 12 بجے تک کی جانے والی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے۔ تا ہم اس حوالے سے انچارچ سوئی گیس والز سیالکوٹ انجینئر حا رث کا کہنا ہے کہ محکمہ کی طرف سے کوئی لوڈ شیڈنگ کا آرڈر نہیں ہے چیک کر کے ایسا کرنے والے ذمہ دار ملازمین کے خلا ف محکمہ کارروائی کرے گا ۔
