
لاہور(ٹی این آئی نیوز)محکمہ مواصلات و تعمیرات پنجاب کا(ایم اینڈ آر) ڈیپارٹمنٹ ختم، محکمہ کے اعلی افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ایم اینڈ آر میں تعینات اس وقت کی تعینات ایگزیکٹیو انجنیئر فاطمہ نے اپنے ایس ڈی او سے ساز باز کرکے فنانس ڈیپارٹمنٹ سے مینٹیننس کی مد میں مزید 6 کروڑ روپے روپے کی لائبلٹیز کی ادائیگی کامطالبہ کردیاہے ۔ تفصیلات کے مطابق سیکرٹری مواصلا ت وتعمیرات پنجاب کی درخواست پرحکومت پنجاب نے پنجاب بھر میں محکمہ مواصلات وتعمیرات پنجاب کے ایم اینڈ آر ڈیپارٹمنٹ کو 9ستمبر2021کوختم کرنے کاباضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا،جس پر ایم اینڈ آر ڈیپارٹمنٹ کے افسران کو مختلف جگہوں پر تعیناتیاں کر دی گئیں جن میں مانیٹرنگ وغیرہ کے عہدے شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق مذکورہ ڈیپارٹمنٹ کے خاتمہ کے بعد ایگزیکٹیو انجنیئر ایم اینڈ آر بلڈنگ 2فاطمہ اور اس کے ایس ڈی اوز ادریس، اور سب انجینئر عدنان نے مبینہ طورپر بوگس کوٹیشیز ‘سابقہ ایگزیکٹیو انجنیئر کے دوڑ میں ہونے والے کاموں کی کوٹیشیز ڈال کر قومی خزانہ سے 5 کروڑ نکال لئے جبکہ باقی 6 کروڑ کی ادائیگیاں کرنے کے لئے محکمہ سے مانگ لئے ہیں ذرائع کے مطابق ان افسران نے اینٹی کرپشن کے افسران سے بھی مبینہ طور پر ساز باز کر رکھی جن کی وجہ سے محکمہ اینٹی کرپشن ان کی کرپشن کے خلاف آنے والی درخواستوں کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیتے ہیں مذکورہ افسران نے مبینہ طور پر قومی خزانہ کے کروڑوں روپے لوٹ کر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے رکھے ہیں یاد رہے کے مذکورہ ایگزیکٹیو انجنیئر فاطمہ نے اپنی کرپشن کو چھپانے اور تحفظ حاصل کرنے کے لئےاینٹی کرپشن لاہور ہیڈکوارٹرز کے چند افسران کوان کی طرف سے دیئے گئے عزواقارب کےشناختی کارڈکاپی پر ورک چارج کی مد میں قومی خزانہ سے ادائیگیاں کرنے کے انکشافات بھی سامنے آئے ہیں اور مذکورہ آفیسر کی کرپشن کے خلاف آنے والی درخواستوں کو ردی کی کی ٹوکری کی زینت یا پھر متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو بجھوا دی جاتی ہیں ۔جبکہ دوسری طرف محلمہ ہائی ویز ایم اینڈ آر کےایگزیکٹو انجینئرزاورایس ایز افسران نے متعلقہ محکمہ سے سٹرکوں کی مینٹیننس کی مد میں 8ارب روپے کی لائبلٹیز کی ادائیگی کامطالبہ کردیاہے جبکہ ایم اینڈ آر بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے سابق افسران نے بھی ایک ارب روپے کی لائبلٹیز کی ادائیگیوں کا مطالبہ کردیاہے،ذرائع کے مطابق مذکورہ افسران نے ٹھیکیداروں کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کرتے ہوئے ان سے ان لائیبلٹیز کی ایڈوانس کمشن حاصل کرلی،اب مذکورہ افسران نے بوگس لائبلٹیز تیار کرکے 9ستمبر 2021تک مینٹیننس کی مد میں مذکورہ بالا خطیر رقم کامطالبہ کیا ہے،یادرہے کہ جن کاموں کی ادائیگیوں کا ان افسران کی جانب سے مطالبہ کیا جارہاہے،ان میں تقریباً 2ارب 20کروڑ روپے 2سال قبل بھی قومی خزانہ سے حاصل کرلئے گئے تھے تاہم اب دوبارہ 3سال پرانی ادائیگیوں سمیت مذکورہ بالاخطیر رقم کا مطالبہ کیاجارہاہے۔سیکرٹری محکمہ مواصلات وتعمیرات پنجاب کیپٹن (ر) اسد کا کہناہے کہ مذکورہ افسران کی طرف سے جس رقم کامطالبہ کیاگیاہے اس کی جانچ پڑتال کے بعد اس کی ادائیگی چیف انجینئرہائی وے اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے کی جائے گی
