
قومی اسمبلی میں برقی توانائی کی پیداوار، ترسیل و تقسیم کے انضباط (ترمیمی) آرڈیننس 2021ء کی مزید 120 دن کیلئے توسیع کی قرارداد منظور
CEO:Ch Arshad mahmood Ghumman
اسلام آباد (ٹی این آئی نیوز)قومی اسمبلی میں آج ہونے والے اجلاس میں ضمنی مالیاتی بل 2021 کے علاوہ متعدد آرڈیننسز میں مزید 120 دن کی توسیع کی قرار دادیں بھی منظور کی گئیں۔قومی اسمبلی میں برقی توانائی کی پیداوار، ترسیل و تقسیم کے انضباط (ترمیمی) آرڈیننس 2021ء کی مزید 120 دن کیلئے توسیع کی قرارداد منظور کی گئی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے قرارداد پیش کی کہ قومی اسمبلی برقی توانائی کی پیداوار، ترسیل و تقسیم کے انضباط (ترمیمی) آرڈیننس 2021ء کی 22 دسمبر 2021ء سے مزید 120 دن کی توسیع کا فیصلہ کرتی ہے۔اس موقع پر اپوزیشن نے اسپیکر کی رائے شماری کو چیلنج کیا جس پر حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کو باری باری اسپیکر نے اپنی نشستوں پر کھڑا کرکے رائے شماری کرائی۔
قرارداد کے حق میں حکومت کی جانب سے 145 ارکان نے اپنی رائے کا اظہار کیا جبکہ اپوزیشن کی جانب سے صرف 3 ارکان مخالفت میں کھڑے ہوئے، باقی اپوزیشن ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا اس طرح قرار داد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔
سرکاری املاک (تجاوزات کا خاتمہ) آرڈیننس 2021ء
قومی اسمبلی نے سرکاری املاک (تجاوزات کا خاتمہ) آرڈیننس 2021ء کی مزید 120 دن کیلئے توسیع کی قرارداد بھی منظور کرلی۔بابر اعوان نے قرارداد پیش کی کہ قومی اسمبلی سرکاری املاک (تجاوزات کا خاتمہ) آرڈیننس 2021ء کی 22 دسمبر 2021ء سے مزید 120 دن کی توسیع کا فیصلہ کرتی ہے جس کے بعد قومی اسمبلی نے قرارداد کی منظوری دے دی۔
اپوزیشن ارکان نے مہنگائی کیخلاف نعروں پر مبنی پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ اسی ہنگامہ آرائی کے دوران قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی خاتون رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی نے حکومتی جماعت تحریک انصاف کی رکن غزالہ سیفی کو تھپڑ دے مارا۔
واقعے کے بعد تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی ایوان سے باہر آگئیں اور اس دوران انہوں نے میڈیا سےگفتگو میں بتایا کہ ’میرا ہاتھ مروڑا گیا ہے، انگلی فریکچر ہوگئی ہے‘۔

غزالہ سیفی نے کہا کہ ارکان قومی اسمبلی سے گاہے گاہے پوچھ لینا چاہیے کہ انہوں نے کہاں تعلیم حاصل کی ہے؟تحریک انصاف کی رکن اسمبلی نے مزید کہا کہ وہ اسپتال آئی ہیں جہاں ڈاکٹرز نے کہہ دیا ہے کہ ان کی انگلی میں فریکچر ہے، ان کا ایکسرے ہونا ابھی باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس واقعے کیخلاف درخواست دیں گی۔میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے غزالہ سیفی نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ انہوں نے شگفتہ جمانی کو جوابی تھپڑ بھی مارا کیوں کہ ان کے پاس اس وقت اور کوئی آپشن نہیں تھا۔اس حوالے سے پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شگفتہ جمانی کا مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔
